جممو اند کسمیر     سری نگر     ڈونڈی پاتھر


ایک کلسٹر کی تعریف مشترکہ مواقع اور خطرات کا سامنا کرنے اور تقریبا ایک جیسی مصنوعات بنانے والی  اکائیوں کے جغرافیائی اعتبار سے ایک جگہ ہونے ﴿ ایک شہر/ قصبہ/ کچہ متصل گاوں اور  ان سے ملحقہ علاقوں﴾ کے طور پر کی جاتی ہے۔ ایک دست کارکلسٹر کی تعریف جغرافیائی اعتبار سے ایک جگہ  پر پائی جانی والی ﴿ عموما گاووں/ قصبہ جات میں﴾ گھریلو ہینڈ لوم/دست کاری کی مصنوعات بنانے والی اکائیوں کے طور پر کی جاتی ہے۔ ایک مثالی کلسٹر میں، اس قسم کی مصنوعات بنانے والے عام طور پر، طویل مدت سے رائج مصنوعات کو کئی نسلوں سے بنانے والے روایتی طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ یقینا بہت سے دستکار کلسٹر صدیوں پرانے   دستکارہیں۔ 

 

ڈونڈی پاتھر کلسٹر کے بارے میں:-

 

ڈونڈی پاتھر کلسٹر ریاست جموو کشمیرکے ضلع سری نگرکے تحت آتا ہے۔

 

ڈونڈی پاتھر کلسٹر میں اس فن کو مستحکم کنے کیلۓ 150 سے زیادہ دستکار اور10 HSG آسکتے ہیں۔ یہ تحریک روز بروز زور پکڑتی جا رھی ہے۔

 

مٹی کے برتن اورسامان:-

 

جمو و کشمیرمیں مٹی کی مختلف مصنوعات بنتی ہیں جیسے لیمپ، تصویریں،  گلدستہ، برتن، میوزیکل آلات، مٹی کے کھلونے، گلاس، انسان اورجانور کی تصویریں، تختی، تمغے، دیوارپر لٹکانے کی چیزیں۔ دو رنگا زار، سجائے جانے والی تصویرں اورکالے شیڈ کےچراغ دان اورمٹی کے رنگین برتن مشہورہیں۔ کانگرا، منڈی، کولو، چمبا اورشملا میں بہت سارے مہاجر برتن ساز ہیں جوکئی دہائی سے یہاں رہ رہے ہیں۔ ان برتن سازوں کو مقامی زبان میں کمہار کہا جاتا ہے۔ ان کے ذریعہ عام طور پر بنائی گئی مصنوعات میں برتن، کھلونے، منی بینک، مختلف شکل اور سائز کے گلدستے شامل ہیں۔ متعدد مختلف قسم کے آئٹم کو اسٹور کرنے کیلۓ ان کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ھندوں دیوتاوں کی مورتیوں کو بناکرخوبصورت شیڈ سمیت دوسری چیزوں میں پینٹ کیا جاتا ہے۔

 

کنگرا کاریگر کالے اورسیاہ لال رنگ میں مٹی کے سامان بناتے ہیں۔ بنائی گئی یہ مصنوعات خاص طورسے گھریلو استعمال کیلۓ ھوتی ہیں اوران کا استعمال صحت کے لۓمفید سمجھا جاتا ہے۔ دھی جمانے کیلۓ استعمال کئے جانے والے برتن ایک مشہورآئیم ہے۔

استعمال ھونے والی مٹی عام طورپر دو سے تین مٹیوں کا مرکب ھوتی ہے جو ندی، کڑھا اورکھائی سے حاصل کی جاتی ہے۔  سب سے زیادہ استعمال ھونے والے ایندھن ٹہنی، پتیاں یا لکڑیاں ھوتی ہین۔ وہ بھٹی جہاں مٹی کے برتن پکائے جاتے ہیں ان کا ٹمپریچر 700-800 ڈگری سیلسیس کے درمیان ھوتا ہے۔

 

انڈیا میں مٹی کے روایتی برتن وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں جن میں سے بہتوں کا تعلق ماقبل تاریح سے ہے۔ مٹی کے سامان کی بڑی آفاقیت ہے اور اس کی روایت پانچ ہزار سال پرانی ہے۔  مٹی کے برتن کوان کی پرکشش بناوٹ کی وجہ سے دستکاری کا نغمہ کہا گیا ہے۔ مختلف قسم کے مٹی کے سامان تیار کئے جاتے ہیں جیسے لیمپ، تصویریں، گلدستے، میوزیکل آلات اورچراغ دان وغیرہ۔

 

بنیادی میٹیریل: مٹی/ کلے، سرسوکے تیل، چرخ، گوند، اسٹارچ، موم، مٹی، چرخ ، ٹہنی، خشک ساخ، کالی مٹی، پیلی مٹی، یلو مٹی، مختلف طرح کی مٹی(چکنی/نرم مٹی) کھانے والا گوند، اسٹارچ، چکنی مٹی، موم۔

 

خام مواد :-

 

سجانے کے میٹیریل: راکھہ، بالو، گوبر، بھوسہ، چکنی مٹی، بالو، فونن پھاڑی(گیلے کپڑے)، فوزی(لکڑی کاٹنے والا، کنگکھیل، سل کیا ھوا برتن کا سلیب، لیفشم(سلینڈرپلیٹ فارم)، پلاسٹک چکنی مٹی،  سرسوکا تیل، چرخ، کھانے والا گوند، فلسپار، مٹی، موم۔

 

 

مختلف استعمال کیلۓ مطلوبہ شکل کو پہیہ پر گھمایا جاتا ہے۔ گھماتےوقت مخصوص حصہ جیسے ٹونٹی  یا ھینڈل کو باہرھی رکھا جاتا ہے۔ انہیں الگ الگ رکھا جاتا ہے اورپھر باڈی کے ساتھہ جوڑا جاتا ہے۔ اس کے بعد جیومیٹرک نمونے بنانے کیلۓ سطح پرنمونے کوتراش کرمزین کیا جاتا ہے۔

 

عمل:-

 

راکھہ اوربالوکے ساتھہ ملی ھوئی چکنی مٹی کو پیروں سے گوندا جاتا ہے، جمع کیا جاتا ہے اورلہسور سے کاٹا جاتا ہے۔ اس کے بعد پھر پیڑا پر ہاتھہ سے گوندا جاتا ہے ڈھیلا تیار کیا جاتا ہے۔ تمام سخت ذرات کو نکال دیا جاتا ہے۔ تیار مٹی کو پہیہ پررکھکر مختلف شکل دی جاتی ہے۔ ایک چرخ میں چھوٹے آرا ھوتے ہیں، چرخ سخت لکڑی یا لوہے کے محور پر ناچتا ہے جس میں ایک بڑا ھب ھوتا ہے چکر لگانے والے ٹیبل کا کام کرتا ہے۔ ریم کے چھید میں ایک عمودی چھڑی داخل کی جاتی ہے۔ کمہار گوندی ھوئی مٹی کو چرخ کے بیچ میں ڈالتا ہے، اورچھڑی کے ساتھہ چاروں طرف چرخ کو گھماتا ہے۔ مرکز گریز قوت کی وجہ سے مٹی کا ڈھیلا باہرکی طرف اوراوپرکی طرف جاتا ہے اورایک برتن کی  شکل اختیارکرلیتا ہے۔ اس کو ایک تار کے ذریعہ کھینچ کر باہرنکالا جاتا ہے، سکھایا کیا جاتا ہے اور بھٹی میں جلایا جاتا ہے۔ جلانے کے بعد مٹی کے سامان سرخ مائل مٹی(ٹیرا کوٹا) میں تبدیل ھوجاتے ہیں۔

 

برتنوں کو سادہ کھلی گڑھے کی بھٹی میں جلایا جاتا ہے جوکہ بہت پرانی ھوتی ہیں اورسستی ھوتی ہیں، انہیں 700-800 ڈگری سیلسیس پر جلایا جاتا ہے۔ برتنوں کو برتن کی پرت، پتے کی پرت، ٹہنیوں کی پرت میں میں رکھا جاتا ہے اور وقفہ وقفہ سے گوبر دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ٹیلے کو دھان کا بھوسہ بھرا ھوا گدا سے ڈھک دیا جاتا ہے، اوراس کوچکنی مٹی کی پرت سے ڈھک دیا جاتا ہے۔ ان کوپکانے میں چارسے پانچ گھنٹے لگتے ہیں۔

 

 

مٹی کے آئٹم بنانے میں کالی، لال اورپیلی مٹی استعمال کی جاتی ہے جو راجستھان اوردھلی سے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کی شکل میں جمع کیا جاتا ہے۔ میٹیریل کو مکمل طرح سے ملایا جاتا ہے اوردھوپ میں سکھایا جاتا ہے تاکہ کسی طرح کی نمی باقی نہ رہ جائے، اگرنمی باقی رہے گئی تو وہ بھاپ بن کرنکل جاتی ہے۔ اس کے بعد گیلے مٹی کے مرکب کو ایک اچھی چلنی سے چال کرکنکرکو نکال دیا جاتا ہے۔ ہاتھہ سے شکل بناکرپھر آئٹم کو ایک ایسی بھٹی میں پکایا جاتا ہے جوگوبرسےڈھکی ھوتی ہے اوراس کے اندر ایندھن ھوتے ہیں۔

 

 

راکھہ اور بالومیں ملی ھوئی مٹی پیر کے ذریعہ گوندا جاتا ہے۔ اس کو پیڑا پرہاتھہ  سے گوندا جاتا ہے اورایک ڈھیلا تیار کیا جاتا ہے۔ تمام سخت ذرات جیسے کنکر، پتھر اورلکڑی وغیرہ کو نکال دیا جاتا ہے۔ مختلف شکل بنانے کیلۓ تیارشدہ مٹی کو چرخ پر رکھا جاتا ہے۔ چرخ میں چھوٹے آرا ھوتے ہیں، وہ سخت لکڑی یا لوہے کے محورپرناچتا ہے جس میں ایک بڑا ھب ھوتا ہے جو چکرکھانے والے ٹیبل کا کام کرتا ہے۔ ریم کے چھید میں ایک عمودی چھڑی داخل کی جاتی ہے۔ کمہار گوندی ھوئی مٹی کو چرخ کے بیچ میں ڈالتا ہے، اورچھڑی کے ساتھہ چاروں طرف چرخ کو گھماتا ہے۔

 

 

مرکزگریزقوت کی وجہ سے مٹی کا دھیلا باہرکی طرف اوراوپرکی طرف جاتا ہے اورایک برتن کی  شکل اختیارکرلیتا ہے۔ اس کو ایک تار کے ذریعہ کھینچ کر باہرنکالا جاتا ہے، خشک کیا جاتا ہےاوربھٹی میں جلایا جاتا ہے۔ جلانے کے بعد مٹی کے کے سامان پکی مٹی میں تبدیل ھوجاتے ہیں۔

 

طریقہ کار:-

 

واتین کمہار ہاتھہ گھمانے کی ایک انفرادی تکنیک کا استعمال کرتی ہیں، شاید یہ طریقہ پتھرکے نئے دورسے پہلے کا ہے جب چرخ ایجاد نہیں ھوا تھا۔ بنائے جانے والی مصنوعات پلین برتن کی سطح، واٹرفلٹر، گلدان، لوبان دانی، لیمپ اور ہکاس شامل ہیں۔

 

پہنچنے کا راستہ:-

 

ایئر کے ذریعہ:-

 

وادی میں اکلوتا شھری ایئر پورٹ اس ضلع میں واقع ہے جو کہ وادی کوباقی دنیا سے جوڑتا ہے۔  اس کے علاوہ یہ کارگل، کرنہ اورگوریج کیلۓ ہیلی کیپٹر سروس بھی مہیا کراتا ہے۔

۔

 روڈ کے ذریعہ:-

 

پورے سری نگرمیں سڑکوں کا ایک بڑا نیٹ ورک اور اسے جمو و کشمیراور شمالی ھند کے اھم شہروں سے جوڑتا ہے۔ ان کا ام اس طرح ہے: چنڈی گڑھ(630 کیلومیر)، دھلی(876 کیلومیٹر)، جمو(48 کیلومیٹر)، لیہ(434 کیلومیٹر)، گلمرگ(290 کیلومیٹر)، سونا مارگ(88 کیلومیٹر) اورپہلگام(96 کیلومیٹر)۔

 

ٹرین کے ذریعہ:-

 

سری نگر میں کوئی ریلوے اسٹیشن نہیں ہے۔ قریبی ریلوے اسٹیشن جمو ہے جوکہ تمام علاقے میں ھیڈ ریل کا کام کرتا ہے۔  دھلی، کولکاتہ اور ممبئی جیسے بڑے ھندوستانی شہرریل کے ذریعہ جمو سے جڑے ھوئے ہیں۔

 








جممو اند کسمیر     سری نگر     اسکورٹ آرگنائزیشن